صفحات

بدھ، 5 مارچ، 2014

أَعُوذُ : بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّ‌جِيمِ






فَإِذَا قَرَ‌أْتَ الْقُرْ‌آنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّ‌جِيمِ ﴿النحل: ٩٨﴾






 عربی ایک خالص زبان ہے۔ جس کا ہر لفظ ایک بنیادی مادہ (Root) سے بنا ہے۔ جس طرح درخت کے وجود کے لئے سب سے اہم حصہ اس کی ”جڑ“ (Root) ہے۔ اور اس ”جڑ“  سے نکلنے والے تمام درخت اور اس پر اُگنے والے تمام پھل اس  ”جڑ“  کی خاصیت رکھتے ہیں-
مثلاً " کتاب اللہ " کی ایک آیت ، جس کا فہم ہماری زبان میں ۔  اُس کی خاصیت کے مطابق  " آم " ہے ۔ اور    ہر قسم کے آم کی ”جڑ“  ایک ہے، لہذا آم کی کوئی بھی قسم یا نام ہو، آم ہی کہلائے گا۔  بالکل اسی طرح عربی زبان کا ہر لفظ اپنی ایک ”جڑ“ رکھتا ہے جس سے اس میں سے دوسرے  الفاظ بنتے ہیں۔

 مثلا، ”ع۔ل۔م“  ایک  ”جڑ“ (مادہ) ہے جس سے کئی الفاظ بنتے ہیں۔ جن کی وجہ بناوٹ ایک ہے . یعنی عَلَمَ۔ چنانچہ جن الفاظ میں،”ع۔ل۔م“ شامل ہو گا۔ ان کا تعلق علم سے ہو گا۔ مثلاََ  جیسے مندرجہ ذیل الفاظ:۔
علم۔عالم۔ علماء۔معلم۔معلمہ۔علوم۔علیم۔علمی۔تعلیم۔ علامت۔علامات۔أعلام۔معلوم۔ معلومات۔ وغیرہ

ان تمام الفاظ میں یہ ظاہر ہے کہ ان سب کا تعلق علم (جاننے) سے ہے۔ لہذا اپنی اس خصوصیت کے باعث عربی نہایت آسان  زبان ہے۔چنانچہ ہم نے عربی زبان کی اسی خوبی کو،
الکتاب سمجھنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اب یقیناً ”ع۔ل۔م“  مادے سے بننے والے الفاظ جب بھی آپ کو سنائی دیں گے، آپ فوراً سمجھ جائیں گے کہ ان کا مطلب کیا ہے۔

ایک بات اور عربی زبان میں فعل کے ہر صیغے میں ایک ضمیر (وہ، اس، تو،تم،میں،ہم) ہوتی ہے۔مثلاً،

عَلَمَکا مطلب صرف ”جاننا“، نہیں بلکہ، ”اُس(مذکر) نے جانا“، اس طرح 
 کَتَبَ کے معنی، ”اُس (مذکر) نے لکھا“۔

اَکتُبُ کے معنی ”میں لکھتا ہوں“۔گویا عربی زبان کا ایک لفظ جملہ ہو تا ہے۔

ہماری محتاط گنتی کے مطابق 
الکتاب"  کے تمام الفاظ(86,430) اندازاً  1,833 مادوں، حروف،حروفِ جر اورضمیروں سے مل کر بنے ہیں  اورایک لفظ کئی بار آیا ہے۔جیسے اللہ2,697 مرتبہ آیا ہے۔مگر ہم نے اس کو ایک گننا ہے۔ اس طرح اندازاً 14,809 الفاظ ہیں۔

گویا کہ
الکتاب" کی ابتدائی سمجھ کے لئے آپ کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔لہذا جب" القرآن " کی تلاوت ہو رہی ہو گی تو آپ کو انشاء اللہ سمجھ آئے گی۔

ہاں  جہاں آپ سمجھیں ،  نیچے اپنے کمنٹس دے کر ہماری را ہنمائی ضرور کریں   ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو            
       قَوْلِ اللَّـهِ کو عربی میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

اگلا لفظ جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ کے ذریعے ہمیں عربی میں بتایا   وہ           بِاللَّـهِ  ہے ۔ جو الکتاب میں اپنے موضوع میں درج ہے۔ جس پر جانے کے لئے ،      بِاللَّـهِ   پر  کلک کریں:
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




2 تبصرے:

  1. ماشاء اللہ بہت بہترین کاؤش ہے، میری خواہش تھی کہ اس طرح کی ویب سائٹ بناؤں۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ آپ پہلے ہی یہ کام کر چکے ہیں، اللہ آپ کو جزا دے۔

    جواب دیںحذف کریں

نوٹ: